سید ضیا حسین ۔۔۔ پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں
جان جاؤں نہ عیب سارے مَیں

اِک زمانہ بنا لیا دشمن
اور کتنے سہوں خَسارے مَیں

نیند تو ساتھ ہی گئی اُس کے
گنتا رہتا ہوں اب ستارے مَیں

آنکھ ملتا ہی رہ گیا اُس دم
دیکھ پایا نہیں نظارے مَیں

کھول کر خود نہ پڑھ سکا اِن کو
بانٹتا ہی رہا سپارے مَیں

بات کھُل کر کیا کرو مجھ سے
کُچھ سمجھتا نہیں اِشارے مَیں

کوئی جلتا ہے گر، جلے بے شک
بھر چکا شعر میں شرارے مَیں

اک حقیقت ہے، چھوڑ کر خوش ہوں
ہر طرح کے ضیا سہارے مَیں

Related posts

Leave a Comment